بینائی کو خاموشی سے نقصان پہنچانے والی 7 روزمرہ عادات

نیویارک(رم نیوز)امریکی ماہرین چشم نے خبردار کیا ہے کہ روزمرہ کی چند غفلتیں اور بری عادات انسان کی بینائی کو آہستہ آہستہ اور خاموشی سے نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ نیو یارک لانگون ہیلتھ کے ماہرِ چشم کے مطابق عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ آنکھوں کی بیماریاں جیسے موتیا اور گلوکوما عام ہو جاتے ہیں، تاہم درج ذیل 7 عام غلطیوں سے بچ کر بینائی کو محفوظ رکھا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق الٹرا وائلٹ شعاعوں کے طویل عرصے تک اثر میں رہنے سے موتیا اور مسکولر ڈی جنریشن کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق تیز دھوپ میں سن گلاسز استعمال نہ کرنے کی وجہ سے آج کل موتیاکی بیماری کم عمر میں ہی ظاہر ہونے لگی ہے۔

ماہرین چشم کے مطابق مدہم روشنی میں پڑھنے سے آنکھوں کے پٹھوں اور آپٹک نرو پر شدید دباؤ پڑتا ہے۔ ناقص غذا ہائی بلڈ پریشر اور ہائی کولیسٹرول کا سبب بنتی ہے، جو دل کی طرح آنکھوں کی صحت بالخصوص ذیابیطس سے جڑی بینائی کی بیماریوں کو بگاڑ سکتی ہے۔ پانی کا کم استعمال آنکھوں کو خشک کرنے والی بیماری کا سبب بنتا ہے، جس سے آنکھوں میں جلن، خارش اور سرخی پیدا ہوتی ہے۔

ماہرین چشم کے مطابق کم نیند یا سلیپ آپنیا کے شکار افراد کے جسم میں رات کے وقت خون کی گردش غیر متوازن ہو جاتی ہے، جس سے آنکھوں کا دباؤ بڑھنے اور گلوکوما جیسے امراض کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ بار بار آنکھوں کو ملنے سے کارنیا کی شکل بگڑ سکتی ہے، جو کہ "کیراٹاکونس" نامی ایک سنگین بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔گلوکوما کی کوئی ابتدائی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ ماہرین اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی علامت کا انتظار کیے بغیر سالانہ بنیادوں پر آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کروایا جائے تاکہ بیماری کا بروقت علاج ممکن ہو سکے۔