اسلام آباد(رم نیوز) وفاقی وزراء عطا اللہ تارڑ اور اعظم نذیر تارڑ نے غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی سلامتی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دو مختلف خارجہ پالیسیاں نہیں اپنائی جا سکتیں۔ وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے بریفنگ کے دوران بتایا کہ خیبرپختونخوا میں صوبائی حکومت کی عملداری اور گورننس کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا تھا، اور این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے تقریباً 800 ارب روپے سی ٹی ڈی کی تشکیل یا سیف سٹی پراجیکٹس جیسے اہم اقدامات پر خرچ نہیں کیے گئے۔ اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے واضح کیا کہ بگڑے ہوئے امن و امان اور ریاستی ضرورت کے تحت صدرِ پاکستان نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی ہے، اور حالات کے تناظر میں اس کی مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
دہشت گردی کے خلاف دو پالیسیاں نہیں چل سکتیں، کے پی میں گورنر راج آئینی اور ناگزیر قدم تھا: وفاقی وزراء