ڈیجیٹل دور کے مالیاتی خدشات،اے آئی اور سائبر حملے عالمی معاشی استحکام کو نقصان پہنچا سکتے ہیں: آئی ایم ایف کا تازہ رپورٹ میں اظہارتشویش

بینکاک(رم نیوز) بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی تازہ ترین "گلوبل فیننشل سٹیبلٹی رپورٹ" میں عالمی مالیاتی نظام کو درپیش خطرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت میں متوقع سے کمزور منافع، خطرناک سائبر حملے اور بڑھتی ہوئی بانڈ ییلڈز عالمی منڈیوں میں شدید عدم استحکام کا سبب بن سکتی ہیں۔

بنکاک میں جاری ہونے والی اس رپورٹ کے مطابق، اگرچہ سیمی کنڈکٹرز اور ڈیٹا سینٹرز میں بھاری سرمایہ کاری نے جیو پولیٹیکل دباؤ کے باوجود عالمی معیشت کو سہارا دیا ہے، تاہم اے آئی سے وابستہ معاشی فوائد توقعات سے کم رہنے کی صورت میں اچانک مارکیٹ کریکشن کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مزید برآں، مالیاتی نظام کی تیزی سے ہوتی ہوئی ڈیجیٹائزیشن اور جدید ٹیکنالوجی کے دور میں اہم انفراسٹرکچر پر سائبر حملوں کے خطرات بھی شدت اختیار کر چکے ہیں۔ آئی ایم ایف کے حکام نے زور دیا ہے کہ ابھرتی ہوئی معیشتیں دفاعی وسائل کی کمی کے باعث سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔