عالمی مالیاتی ڈھانچے کی ساختی کمزوریاں، ترقی پذیر ممالک کے لیے ’باروئرز پلیٹ فارم‘ کیوں بنایا گیا اور اس کے مقاصد کیا ہیں؟

جنیوا(رم نیوز)اقوام متحدہ کی کانفرنس برائے تجارت و ترقی (UNCTAD) کے مطابق، 2024 میں ترقی پذیر ممالک کا بیرونی قرض 11.7 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جبکہ 3.4 ارب آبادی والے 46 ممالک صحت و تعلیم کے مقابلے میں قرضوں کی ادائیگی پر زیادہ فنڈز خرچ کر رہے ہیں۔ روایتی مالیاتی نظام کی ان ہی ساختی کمزوریوں اور قرض دہندگان کے ناکام طریقہ کار سے نمٹنے کے لیے اپریل 2026 میں ’باروئرز پلیٹ فارم‘ کا آغاز کیا گیا۔ اس کے بنیادی مقاصد میں قرض کے بوجھ تلے دبے ممالک کو ایک بااختیار مشترکہ فورم فراہم کرنا، عالمی مالیاتی نظام کی ناانصافیوں کے خلاف متاثرہ ممالک کی مؤثر آواز بلند کرنا،مالیات کو معاشی ترقی اور فلاحی کاموں کی راہ میں رکاوٹ کے بجائے معاون بنانا ہے۔

ادارے کے مطابق اصل بحران صرف قرضوں کا حجم نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام کی ساختی کمزوریاں ہیں، جہاں روایتی طور پر قرض دہندگان کی قیادت میں قائم رابطہ کاری اور مذاکراتی نظام قرض لینے والے ممالک کی مشترکہ ضروریات کا مؤثر جواب دینے میں ناکام رہا ہے۔یو این سی ٹی اے ڈی کی سیکرٹری جنرل ربیکا گرینسپین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ 3.4 ارب لوگ بہتر زندگی کے حق دار ہیں جو ایک ایسا منصفانہ نظام چاہتے ہیں جہاں مالیات ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ ادارے کے مطابق اصل بحران عالمی مالیاتی نظام کی ساختی کمزوریاں ہیں، جہاں روایتی نظام قرض لینے والے ممالک کی مشترکہ ضروریات کا مؤثر جواب دینے میں ناکام رہا ہے۔