باکو(رم نیوز) آذربائیجان میں نئے تعلیمی ضوابط کے تحت سکولوں میں حجاب پہننے والی طالبات کو داخلے سے روکے جانے پر شدید احتجاج شروع ہوگیا ہے۔ حکومت کی جانب سے نافذ کردہ ان قوانین میں واضح طور پر حجاب کا ذکر تو نہیں ہے، لیکن "تعلیم کی سکیولر نوعیت" کی شرط کی آڑ میں بعض سکولوں نے اس کی ایسی تشریح کی ہے جس سے طالبات کو کلاسوں میں جانے سے روکا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پر تنقید کی ہے، جبکہ اس معاملے پر آذربائیجان اور ترکی کے درمیان بھی غیر معمولی اختلاف سامنے آیا ہے۔ دوسری جانب، حکام کا مؤقف ہے کہ یہ ضوابط تعلیمی ماحول میں غیر جانبداری اور یکساں یونیفارم کے اصول کو برقرار رکھنے کے لیے بنائے گئے ہیں۔
21 ستمبر کو آذربائیجان کی کابینہ نے سرکاری سکولوں کے یونیفارم سے متعلق قواعد میں ترامیم کی منظوری دی تھی۔ ان تبدیلیوں میں ایسے لباس پر پابندی عائد کی گئی ہے جو سرکاری یونیفارم کے تقاضوں پر پورا نہ اترتا ہو یا تعلیم کے سکیولر اصولوں سے متصادم ہو۔ اس کے علاوہ 6 اکتوبر کو اساتذہ کے لیے بھی لباس کے نئے ضوابط متعارف کرائے گئے تھے۔یہ ضوابط اگرچہ حجاب پر پابندی عائد نہیں کرتے۔
تاہم اس سے انفرادی سکولوں کو یہ اختیار مل گیا ہے کہ وہ اپنے طور پر قوانین کا اطلاق کریں۔ ان ضوابط کے حامیوں کا کہنا ہے کہ معیاری یونیفارم تعلیمی ماحول میں غیر جانبداری برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔دوسری جانب، والدین اور حقوقِ انسانی کے علمبرداروں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ کیا یونیفارم کی سخت شرط کو نافذ کرتے ہوئے بچوں کو حصولِ تعلیم سے روکا جانا درست ہے؟ یہ پابندیاں صرف طالبات تک محدود نہیں رہیں بلکہ اساتذہ بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں۔