فرانس میں ’شامونڈا وائرس‘ کا پہلا انسانی کیس رپورٹ، یہ وائرس کیا ہے اور خطرات کیا ہیں؟

پیرس(رم نیوز) فرانسیسی حکام نے ملک میں 'شامونڈا وائرس' (Shamonda virus) کا پہلا انسانی کیس رپورٹ کیا ہے، جو کہ ایک شدید بیمار اور کمزور مدافعتی نظام کے حامل مریض کی موت کا سبب بن گیا۔ فرانس کی وزارتِ صحت کے مطابق، یہ واقعہ اکتوبر کے اوائل میں پیش آیا جہاں لیون شہر کے ایک ہسپتال میں زیرِ علاج مریض میں اس وائرس کی تصدیق ہوئی۔ وزارت کا کہنا ہے کہ افریقہ اور ایشیا میں کئی دہائیوں سے اس وائرس کی موجودگی کے باوجود اس سے قبل انسانوں میں اس کے منتقِل ہونے کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تھا، اس لیے یہ ایک انتہائی غیر معمولی واقعہ ہے۔ تحقیقات کے مطابق، یہ وائرس بنیادی طور پر مویشیوں (موسمیاتی مکھیوں یا مچھروں کے کاٹنے) کے ذریعے پھیلتا ہے۔

حکام نے واضح کیا ہے کہ اب تک عام آبادی کو اس سے کسی قسم کا صحت کا خطرہ لاحق نہیں ہے۔ یہ وائرس پہلی بار 1965ء میں نائیجیریا میں مویشیوں کے اندر دریافت کیا گیا تھا، جو طویل عرصے تک افریقہ اور ایشیا کے بعض حصوں میں جانوروں تک محدود رہا۔ تاہم، حالیہ مہینو ں میں یہ یورپ کے مختلف ممالک (بشمول فرانس، جرمنی اور سوئٹزر لینڈ) میں بھی مویشیوں میں پھیلتا ہوا دیکھا گیا ہے۔ جانوروں میں اثرات: یہ بنیادی طور پر مویشیوں (گائے، بھیڑوں، بکریوں اور گھوڑوں) کو متاثر کرتا ہے۔ تاریخی طور پر اسے انسانوں کے لیے غیر منتقلی اور بے ضرر سمجھا جاتا تھا۔ ماہرین اور عالمی ادارے اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں، تاہم اب تک عام آبادی کے لیے کسی بڑے خطرے کی تردید کی گئی ہے۔