تل ابیب (رم نیوز)اسرائیل کی سیاست میں حکومت سازی کا معاملہ عرب جماعتوں کے گرد گھومنے لگا ہے۔ انتخابی جائزوں میں کسی ایک بڑے سیاسی اتحاد کو واضح اکثریت نہ ملنے کے امکان نے عرب جماعتوں کی پارلیمانی اہمیت بڑھا دی ہے، جن کی حمایت آئندہ حکومت کی تشکیل میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو دائیں بازو اور مذہبی جماعتوں کے ساتھ اقتدار برقرار رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ مختلف سیاسی رجحانات رکھنے والی جماعتوں کو متحد کرنے کی کوششیں کررہے ہیں، اسرائیل کی آبادی میں عرب شہری تقریباً 20 فیصد ہیں۔
مختلف سرویز میں عرب جماعتوں کے لیے کنیسٹ کی 120 نشستوں میں سے 13 سے 14 نشستوں کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اگر انتخابی نتائج میں کسی بھی بڑے اتحاد کو واضح برتری نہ ملی تو یہ نشستیں حکومت سازی کے لیے اہمیت اختیار کر سکتی ہیں۔ تاہم، پارلیمان میں عددی اہمیت کے باوجود عرب جماعتوں کے لیے حکومتی اتحاد کا حصہ بننا آسان نہیں ہوگا۔ بڑی یہودی جماعتوں کی جانب سے ان کے ساتھ براہِ راست شراکت پر تحفظات سیاسی مذاکرات کو پیچیدہ کر سکتے ہیں۔
تاہم حکومتی اتحاد میں شمولیت کے بجائے پارلیمان میں حمایت پر اتفاق رائے بھی اہم ہوسکتی ہے۔ عرب سیاسی قوتوں میں جوائنٹ عرب لسٹ نمایاں اتحاد ہے، جس میں حداش، بلد اور تعال شامل ہیں۔ یہ اتحاد عرب شہریوں کے مساوی حقوق، فلسطینی علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے۔ اتحاد نے اہم پالیسی مطالبات پر پیش رفت کی صورت میں نیتن یاہو مخالف حکومت کی پارلیمانی حمایت کا امکان ظاہر کیا ہے۔