واشنگٹن (رم نیوز)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران معاہدہ کرتا ہے اور پھر پیچھے ہٹ جاتا ہے، اس لیے وہ زیادہ قابلِ بھروسہ نہیں۔امریکی صدر نے واضح کیا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات اچھے جا رہے ہیں اور وہ ڈیل کرنا چاہتا ہے، لیکن ہمیں کوئی جلدی نہیں۔ ایران پر دوبارہ حملے کے امکان سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ اس کا پیشگی جواب نہیں دے سکتے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہم ایران کی بحریہ، فضائیہ، فضائی دفاعی نظام اور جوہری تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں، اور اب صرف ایک یا دو جوہری تنصیبات پر کارروائی باقی ہے، ضرورت پڑنے پر ان پر 10 منٹ میں کارروائی کی جا سکتی ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ حملے سے متعلق کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔ دوسری جانب امریکی اخبار "وال سٹریٹ جرنل" کے مطابق امریکہ ایران پر بمباری دوبارہ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے جو وسط مدتی انتخابات کے بعد ہو سکتی ہے، اور ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے بھی گفتگو کی ہے۔