تہران(رم نیوز) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر صورتحال کی نزاکت اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث ثالث ممالک کے ساتھ سفارتی رابطوں اور مشاورت میں نمایاں تیزی لائی گئی ہے۔ترکمانستان میں ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی 'ارنا' سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ موجودہ بحران کی سنگینی کے پیش نظر قطر اور پاکستان ثالث کا انتہائی فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ قطر میں ہونے والے تین روزہ مذاکرات اتوار کے روز بغیر کسی حتمی پیش رفت کے ختم ہوئے، جس کے بعد ایرانی وفد تہران واپس آ گیا۔ عباس عراقچی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ایران اپنی تمام شرائط اور تجاویز پہلے ہی پیش کر چکا ہے، اور اب تنازع کے حل یا پیش رفت کا مکمل انحصار "واشنگٹن کی سیاسی دانشمندی" پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کے مطالبات تسلیم کیے جانے کی صورت میں ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جا سکتا ہے۔
ثالث ممالک سے مشاورت تیز، معاملات کا انحصار اب واشنگٹن کی دانشمندی پر ہے، عباس عراقچی