برسلز/لندن(رم نیوز) یورپ کے سات مختلف ممالک میں سپر مارکیٹوں کے کولنگ سسٹمز کو ایک بار پھر خطرناک سائبر حملے کا نشانہ بنایا گیا ہے، جہاں نامعلوم ہیکرز نے ریموٹ رسائی کے ذریعے فریجز اور فریزرز کا درجہ حرارت زبردستی بڑھا کر 50 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچا دیا۔ اس افسوسناک تخریب کاری کے باعث اسٹورز میں رکھی گئی کثیر مقدار میں کھانے پینے کی اشیاء مکمل طور پر خراب ہو گئیں، جنہیں سپر مارکیٹوں کو مجبورا تلف کرنا پڑا۔ یورپی یونین نے اس سنگین واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے "فوڈ سپلائی چین کو جان بوجھ کر سبوتاژ کرنے اور صارفین کے اعتماد کو مجروح کرنے کی ایک مذموم کوشش" قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق تازہ ترین واقعات کی زد میں آنے والے ممالک میں بیلجیئم، سویڈن، لکسمبرگ، فن لینڈ، آئرلینڈ اور اسٹونیا شامل ہیں۔ یاد رہے کہ تین ہفتے قبل فرانس میں بھی بالکل اسی نوعیت کا حملہ کیا گیا تھا، جبکہ اگست کے اوائل میں امریکہ کے چند فوجی اڈوں پر بھی اس طرح کی پراسرار خرابیاں سامنے آئی تھیں۔ ماہرینِ سائبر سیکیورٹی کا کہنا ہے کہ یہ واقعات ڈیجیٹل سکیورٹی کے ایک نئے اور خطرناک محاذ کی عکاسی کرتے ہیں، جہاں روایتی کمپیوٹر سسٹمز کے بجائے انٹرنیٹ سے منسلک روزمرہ کے تجارتی آلات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر متاثرہ ممالک کے متعلقہ ادارے اپنے ڈیجیٹل سسٹمز کو ہنگامی بنیادوں پر محفوظ بنانے کے لیے سرگرم ہو گئے ہیں۔