واشنگٹن(رم نیوز) معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے دباؤ پر ایران کے مقام "جبلِ الفاس" پر ایٹمی حملہ کرنے پر غور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق چونکہ اس مقام کا دفاعی حصار 100 میٹر گہرا ہے اور کوئی روایتی ہتھیار اسے نہیں توڑ سکتا، اس لیے ایٹمی حملہ ہی واحد آپشن بتایا جا رہا ہے۔ ادھر وائٹ ہاؤس کے کچھ مشیر اب بھی ایران سے معاہدے کے حق میں ہیں، جبکہ تہران نے اس مبینہ ایٹمی سائٹ سے متعلق بیانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دوحہ میں سفارتی مشاورت جاری ہے مگر تاحال کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے اندرونی سیاسی حالات بھی اس دباؤ کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ حالیہ پارلیمانی انتخابات کے بعد وزیراعظم نتن یاہو کی کمزور ہوتی ہوئی سیاسی پوزیشن انہیں کسی بڑے بیرونی جوش یا کارروائی کی طرف مائل کر رہی ہے تاکہ وہ اپنی داخلی پوزیشن مستحکم کر سکیں۔