واشنگٹن (رم نیوز) امریکہ کے وسط مدتی انتخابات میں کامیابی کے نتیجے میں کانگریس میں ڈیموکریٹس کو نیا سیاسی اثر و رسوخ حاصل ہو گیا ہے، جس کے بعد وہ آئندہ جنوری سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کو کڑے چیلنجز دینے کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ نئے ارکان کے عہدے سنبھالنے کے بعد ڈیموکریٹس کے پاس یہ اختیار ہوگا کہ وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے کابینہ اور سپریم کورٹ کے لیے نامزد کردہ امیدواروں کی تقرریوں کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کریں۔ اس کے علاوہ وہ حکومتی فیصلوں، انتظامی اقدامات اور پالیسیوں کے خلاف کانگریس میں تحقیقات شروع کرنے کے ساتھ ساتھ ضرورت پڑنے پر مواخذے کی کارروائی کا اختیار بھی استعمال کر سکیں گے۔
تاہم، عملی سیاست کی حقیقتیں ان کے لیے کئی مشکلات بھی پیدا کریں گی۔ ماہرین کے مطابق صدر ٹرمپ کے تعاون یا ریپبلکنز کی حمایت کے بغیر بڑے اور اہم قوانین منظور کروانا ڈیموکریٹس کے لیے انتہائی دشوار ہوگا۔ اس کے علاوہ ایران، اسرائیل اور مشرق وسطیٰ سمیت دیگر عالمی اور خارجہ امور میں امریکی انتظامیہ کی پالیسیوں کو براہِ راست تبدیل کروانے کی ان کی صلاحیت بھی حد درجہ محدود رہے گی۔ مجموعی طور پر یہ انتخابی کامیابی ڈیموکریٹس کو حکومتی احتساب اور نگرانی کا موثر ذریعہ تو فراہم کرتی ہے، لیکن قانون سازی اور خارجہ پالیسی کے محاذ پر انہیں بدستور سخت رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔