ماسکو/کیئو(رم نیوز)روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ ایک نئے اور خطرناک مرحلے میں داخل ہو گئی ہے۔ روس نے دوسری مرتبہ اپنے جدید ترین ہائپرسونک میزائل 'اوریشنک' (Oreshnik) کا استعمال کرتے ہوئے یوکرین کے مغربی حصوں کو نشانہ بنایا ہے۔ پولینڈ کی سرحد سے محض 60 کلومیٹر دور ہونے والے ان دھماکوں نے نہ صرف یوکرین بلکہ پوری یورپی یونین اور نیٹو ممالک میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
روسی زبان میں 'اوریشنک' کا مطلب 'ہیزل کا درخت' ہے، لیکن اس کی صلاحیتیں انتہائی ہولناک ہیں۔ صدر ولادیمیر پیوٹن کے مطابق اس میزائل کی رفتار 3 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے، جو اسے دنیا کے کسی بھی موجودہ دفاعی نظام (Anti-Missile System) کے لیے ناقابلِ تسخیر بناتی ہے۔
میزائل کی اہم خصوصیات
ہائپرسونک رفتار: یہ آواز کی رفتار سے کئی گنا تیزی سے اپنے ہدف کی طرف لپکتا ہے، جس سے مخالف فوج کو ردِعمل کا وقت ہی نہیں ملتا۔
درمیانی رینج: ماہرین کے مطابق اس کی رینج 2,500 سے 5,000 کلومیٹر ہے، یعنی یہ روس میں بیٹھے بیٹھے یورپ کے کسی بھی دارالحکومت کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
متعدد وار ہیڈز: یہ میزائل فضا میں پہنچ کر کئی حصوں میں تقسیم ہو جاتا ہے، جس سے ایک ہی وقت میں مختلف اہداف کو تباہ کیا جا سکتا ہے۔
یوکرین کے وزیر خارجہ آندرے سیبیا نے اس حملے کو ٹرانس اٹلانٹک کمیونٹی کے لیے ایک بڑا چیلنج قرار دیا ہے۔ عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ روس نے یہ حملہ جان بوجھ کر نیٹو کے رکن ملک پولینڈ کی سرحد کے قریب کیا ہے تاکہ مغرب کو اپنی عسکری برتری کا پیغام دیا جا سکے۔
روسی وزارتِ دفاع کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی صدر پیوٹن کی رہائش گاہ پر کیے گئے مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کا بدلہ ہے۔ دوسری جانب یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے انتباہ کیا ہے کہ روس اس جدید ٹیکنالوجی کو 'جنگی تجربہ گاہ' کے طور پر استعمال کر رہا ہے، جو عالمی امن کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔
دفاعی ماہرین اور مبصرین کے مطابق 'اوریشنک' کا استعمال محض یوکرین کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ مغرب کو یہ باور کرانا ہے کہ روس کے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں جن کا توڑ فی الحال امریکہ یا یورپ کے پاس نہیں ہے۔