'ڈونرو نظریہ': کیا ٹرمپ دنیا کو دوبارہ نوآبادیاتی دور میں لے جا رہے ہیں؟

نیویارک(رم نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 'امریکہ فرسٹ' پالیسی کو ایک نئے اور جارحانہ مرحلے میں داخل کر دیا ہے، جسے ماہرین 'ڈونرو نظریہ' قرار دے رہے ہیں۔ اس نئی حکمتِ عملی کے تحت امریکہ کسی بھی بین الاقوامی قانون یا اتحاد کی پرواہ کیے بغیر براہِ راست مداخلت اور معاشی کنٹرول کی راہ پر گامزن ہے۔

اہم نکات

وینزویلا پر کنٹرول: صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اب امریکہ وینزویلا کے تیل کے ذخائر اور نظام کو خود چلائے گا۔

طاقت کا قانون: ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ دنیا صرف 'طاقت' کے اصول پر چلتی ہے، اس لیے امریکہ کو اپنے مفادات کے لیے کسی مستقل اتحاد (جیسے نیٹو) کی ضرورت نہیں۔

اگلا ہدف: گرین لینڈ کی معدنیات اور لاطینی امریکہ میں چینی اثر و رسوخ کو ختم کرنا ٹرمپ کی نئی ترجیحات میں شامل ہے۔

سیاسی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ ٹرمپ کی یہ 'تنہائی پسند' مگر 'جارحانہ' پالیسی عالمی نظام کو ایک صدی پیچھے دھکیل سکتی ہے، جہاں بڑی طاقتیں اپنی مرضی سے سرحدیں اور حکومتیں تبدیل کرتی تھیں۔