ڈھاکہ (رم نیوز ) بنگلہ دیش میں 12 فروری کو ہونے والے تاریخی عام انتخابات کے لیے انتخابی مہم کا شور کم ہوگیا ہے، انتخابی مہم ختم ہوچکی ہے لیکن انتخابات کے حوالےسے جوش وخروش ہے ۔ اس بار کی مہم میں ایک غیر معمولی تبدیلی دیکھی گئی ہے۔ سیاسی جماعتوں نے اپنی تقاریر اور منشور میں روایتی طور پر زیرِ بحث رہنے والے پڑوسی ممالک، پاکستان اور بھارت کا ذکر کرنے کے بجائے تمام تر توجہ ملک کے اندرونی مسائل اور نظام کی تبدیلی پر مرکوز رکھی۔
ماضی کے برعکس جہاں انتخابات میں "انڈیا کارڈ" یا "پاکستانی اثر و رسوخ" جیسے موضوعات انتخابی مہم میں شامل ہوتے تھے ۔ اس بار سیاسی جماعتوں نے عوامی مزاج دیکھتے ہوئے ان حساس موضوعات سے گریز کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بنگلہ دیشی عوام، خاص طور پر نوجوان نسل، اب خارجہ تعلقات کے بجائے ٹھوس معاشی نتائج اور جمہوری شفافیت کی طلب گار ہے۔ اس مہم کے دوران سیاسی جماعتوں کے درمیان جن نکات پر سب سے زیادہ بحث ہوئی، اس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کا کنٹرول اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری، عدلیہ، پولیس اور الیکشن کمیشن کو سیاسی اثر و رسوخ سے پاک کرنا، سابقہ دورِ حکومت کے مالیاتی سکینڈلز کی تحقیقات اور شفافیت کا قیام، ریفرنڈم کے ذریعے ملک کے سیاسی ڈھانچے میں ممکنہ بڑی تبدیلیاں شامل ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، بی این پی (BNP) اور دیگر بڑی جماعتوں نے بھارت کے ساتھ اپنے تعلقات کو ایک نئی، عملی بنیاد پر استوار کرنے کا اشارہ دیا ہے، جبکہ پاکستان کے حوالے سے بھی کسی قسم کی جذباتی مہم جوئی سے گریز کیا گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ طلبہ تحریک کے بعد پیدا ہونے والا "نیا بنگلہ دیش" کسی بھی ملک کے ساتھ غیر ضروری وابستگی کے بجائے "بنگلہ دیش فرسٹ" کی پالیسی پر عمل پیرا نظر آتا ہے۔