واشنگٹن (رم نیوز) امریکہ نے ایران کے جوہری پروگرام اور خطے کی صورتحال پر اپنے موقف کو مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ سفارت کاری کی ناکامی کی صورت میں تہران کے خلاف فوجی طاقت کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگرچہ ترجیحی بنیادوں پر مسائل کو سفارت کاری سے حل کرنا چاہتے ہیں، تاہم قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے وہ طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کریں گے۔
انہوں نے واضح کیا کہ صدر کے پاس تمام آپشنز میز پر موجود ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو آج کانگریس کی اہم قیادت سے ملاقات کریں گے، جہاں وہ ایران کی تازہ ترین صورتحال، جوہری پیش رفت اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر بریفنگ دیں گے۔ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ ایران کو معاہدے کے لیے پہلے ہی محدود مہلت دے چکے ہیں، جس کے ختم ہونے پر سخت اقدامات متوقع ہیں۔
اسرائیل کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ کے پاس ایران پر لگاتار 5 دن تک شدید حملے کرنے کا اسلحہ اور ذخیرہ موجود ہے۔ ساتھ ہی اسرائیل نے حزب اللہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ امریکہ اور ایران کے درمیان کسی ممکنہ تصادم میں کودا تو لبنان کو تباہ کر دیا جائے گا۔