کابل (رم نیوز)پاکستان کی جانب سے کی جانے والی حالیہ موثر جوابی کارروائی اور 'آپریشن غضب للحق' کے نتیجے میں سیکڑوں اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد، افغان طالبان رجیم نے جنگی جنون چھوڑ کر سفارت کاری کا راگ الاپنا شروع کر دیا ہے۔ ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک پریس کانفرنس میں سرحدوں پر جاری کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے پاکستان کو مذاکرات کی میز پر آنے کی دعوت دی ہے۔
افغان ترجمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ کابل حکومت سرحد پر جاری تناؤ کو مزید بڑھانے کے حق میں نہیں ہے۔ ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہم بارہا پُرامن حل پر زور دے چکے ہیں اور اب بھی چاہتے ہیں کہ فریقین کے درمیان پیدا ہونے والے مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ خطے میں استحکام کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت ہی بہترین اور واحد راستہ ہے۔ پاکستان کے سخت موقف اور عالمی دباؤ کے پیشِ نظر ترجمان نے ایک بار پھر پرانا وعدہ دہراتے ہوئے کہا کہ ہم پڑوسی ممالک اور بین الاقوامی برادری کو یقین دلاتے ہیں کہ افغانستان کی مٹی کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، افغان طالبان کا یہ بیان ان کی میدانِ جنگ میں ہونے والی بڑی شکست کا نتیجہ ہے۔
ترجمان پاک فوج کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستانی فورسز نے سرحد پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور افغان طالبان کی دفاعی لائن کو تہس نہس کر دیا ہے، جس میں دشمن کے سیکڑوں اہلکار مارے گئے اور درجنوں بکتر بند گاڑیاں تباہ ہو چکی ہیں۔