ایران کا اقتدارِ اعلیٰ نشانے پر: سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کون ہیں اور امریکہ و اسرائیل انہیں کیوں نشانہ بنانا چاہتے ہیں؟

تہران/واشنگٹن (رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری حالیہ جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کا رخ ایران کی سب سے طاقتور شخصیت، آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفاتر کی جانب مڑ گیا ہے۔ 28 فروری 2026 کو ہونے والے میزائل حملوں میں صدارتی محل اور سپریم لیڈر کے کمپاؤنڈ کے قریبی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جس کے بعد 86 سالہ خامنہ ای کو نامعلوم محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای محض ایک مذہبی رہنما نہیں بلکہ ایران کے سیاسی اور عسکری نظام کا وہ ستون ہیں جن کے پاس حتمی اختیار ہے۔

1939 میں مشہد میں پیدا ہونے والے خامنہ ای نے 1979 کے اسلامی انقلاب میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ 1981 سے 1989 تک ایران کے صدر رہے اور امام خمینی کے انتقال کے بعد سے سپریم لیڈر کے منصب پر فائز ہیں۔ ایرانی آئین کے تحت وہ مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف ہیں۔ عدلیہ، سرکاری میڈیا اور خارجہ پالیسی کے تمام بڑے فیصلے ان کی مرضی کے بغیر ممکن نہیں ہوتے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، حالیہ حملوں میں سپریم لیڈر کے دفاتر کو نشانہ بنانے کی چار بنیادی وجوہات ہیں: امریکہ اور اسرائیل کا ماننا ہے کہ ایران کے دفاعی نظام اور 'محورِ مزاحمت' (حزب اللہ، حماس، حوثی) کی اصل طاقت خامنہ ای کی قیادت میں پنہاں ہے۔

انہیں نشانہ بنا کر ایرانی نظام کو اندرونی طور پر مفلوج کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم نیتن یاہو اور امریکی صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ خامنہ ای ایران کے جوہری پروگرام کے سب سے بڑے حامی ہیں، اور ان کی موجودگی میں ایران کو ایٹمی طاقت بننے سے روکنا مشکل ہے۔ خامنہ ای دہائیوں سے امریکہ کو "شیطانِ بزرگ" قرار دیتے آئے ہیں۔ ان کی قیادت میں ایران نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کو ہمیشہ چیلنج کیا ہے۔ اسرائیلی حکام خامنہ ای کو اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔ اسرائیلی وزیر دفاع کے حالیہ بیانات اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ وہ اب ایرانی قیادت کو براہِ راست ختم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

خامنہ ای کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ تہران کے ایک کمپاؤنڈ میں سادہ زندگی گزارتے ہیں اور شاعری و باغبانی کے شوقین ہیں۔ ان کے خاندان کے افراد عموماً منظرِ عام سے دور رہتے ہیں، تاہم حالیہ تنازع کے دوران ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کا نام سیاسی حلقوں میں گردش کر رہا ہے، جنہیں ان کا ممکنہ جانشین سمجھا جاتا ہے۔ بین الاقوامی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی ملک کی اعلیٰ ترین قیادت یا سپریم لیڈر کو براہِ راست نقصان پہنچایا گیا، تو یہ تنازع قابو سے باہر ہو جائے گا۔ ایران پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ ان کی قیادت پر حملہ ریڈ لائن ہے، جس کا جواب پوری دنیا میں امریکی مفادات کو نشانہ بنا کر دیا جائے گا۔