تہران (رم نیوز) ایران پر امریکی و اسرائیلی حملوں کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے عالمی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں واشنگٹن کو سخت پیغام دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ ایران کی قیادت مضبوط ہے اور حکومت کی تبدیلی کا امریکی خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا۔ عباس عراقچی نے ان تمام افواہوں کی تردید کر دی ہے جو سپریم لیڈر کی سلامتی کے حوالے سے گردش کر رہی تھیں۔ انہوں نے تصدیق کی کہ آیت اللہ علی خامنہ ای زندہ ہیں اور نظامِ حکومت مکمل طور پر فعال ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران میں حکومت ختم کرنے کی کوشش ایک "ناممکن مشن" (Mission Impossible) ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگرچہ حملوں میں کچھ ایرانی کمانڈرز شہید ہوئے ہیں، لیکن اس سے ایران کی عسکری صلاحیت یا حکومتی ڈھانچے پر کوئی بڑا فرق نہیں پڑے گا۔ عباس عراقچی نے واضح کیا کہ ایران کشیدگی میں کمی چاہتا ہے، لیکن کسی بھی قسم کی بات چیت سے پہلے امریکی و اسرائیلی حملوں کا رکنا لازمی ہے۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران جوہری افزودگی سمیت اپنے کسی بھی قانونی حق سے دستبردار نہیں ہوگا۔ تاہم، ایک ایسے نئے معاہدے کی گنجائش موجود ہے جو ایران کے پُرامن جوہری پروگرام کی ضمانت دے سکے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے اعتراف کیا کہ ایران کے پاس امریکی سرزمین کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود نہیں ہے، تاہم خطے میں موجود امریکی مفادات اور اڈے ایران کی پہنچ میں ہیں۔ عباس عراقچی کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب تہران اور دیگر شہروں پر حملوں کے بعد ایرانی معیشت اور عوامی نظم و ضبط دباؤ کا شکار ہے۔ ان کا انٹرویو ظاہر کرتا ہے کہ ایران سفارتی سطح پر اب بھی دروازے کھلے رکھنا چاہتا ہے، لیکن وہ اپنی قیادت اور جوہری پروگرام پر کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے۔