بیجنگ (رم نیوز) ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی حملوں کے بعد عالمی طاقت چین نے مشرقِ وسطیٰ کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ خطے میں طاقت کا استعمال مزید تباہی کا باعث بنے گا اور تمام فریقین کو صبر و تحمل سے کام لینا چاہیے۔ چین نے زور دیا ہے کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ایران کی علاقائی خودمختاری کا مکمل احترام کیا جائے اور کسی بھی ملک کی سرحدوں کی خلاف ورزی ناقابلِ قبول ہے۔
بیجنگ نے امریکہ اور اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اپنی فوجی کارروائیاں روکیں تاکہ انسانی جانوں کے مزید ضیاع سے بچا جا سکے۔ چینی وزارتِ خارجہ کے مطابق، موجودہ بحران کا حل صرف سفارت کاری اور مذاکرات میں پنہاں ہے۔ چین نے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ فریقین کو دوبارہ میز پر لانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔
چین نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی عالمی امن اور معیشت کے لیے سنگین خطرہ ہے، اس لیے خطے کے امن و استحکام کو ہر صورت برقرار رکھا جائے۔چین کا یہ بیان اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ بیجنگ کے ایران کے ساتھ قریبی اقتصادی اور تزویراتی تعلقات ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ چین اس بحران میں ایک ثالث (Mediator) کا کردار ادا کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، جیسا کہ اس نے ماضی میں سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات کی بحالی میں کیا تھا۔