تہران(رم نیوز)ایران کا میزائل پروگرام مشرقِ وسطیٰ میں اس کی عسکری طاقت کا سب سے اہم ستون سمجھا جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں پاسدارانِ انقلاب (IRGC) نے زمین سے 500 میٹر نیچے بنائے گئے ان خفیہ اڈوں کی نقاب کشائی کی ہے، جنہیں 'میزائل سٹی' کا نام دیا گیا ہے۔ یہ اڈے ایران کے مختلف صوبوں میں سنگلاخ پہاڑوں کے نیچے سرنگوں کی شکل میں بنائے گئے ہیں۔
پہلا زیر زمین اڈہ 1984 میں مغربی ایران میں تعمیر کیا گیا تھا۔ان اڈوں میں نہ صرف میزائلوں کا ذخیرہ کیا جاتا ہے بلکہ یہاں میزائل تیار کرنے والے کارخانے اور لانچنگ پیڈز (Launchers) بھی موجود ہیں۔ مارچ 2019 میں خلیج فارس کے ساحل پر ایک 'سمندری میزائل شہر' کی نقاب کشائی کی گئی، جہاں سطح سے سمندر میں مار کرنے والے گائیڈڈ میزائل نصب ہیں۔ایران نے فضائی بیڑے کی کمی کو پورا کرنے کے لیے میزائلوں کی وسیع رینج تیار کی ہے۔
ہائپر سونک آواز کی رفتار سے 13 سے 15 گنا تیز (Mach 15)۔الفتح-1، الفتح-2راکٹ مختصر فاصلے کے لیے غیر گائیڈڈ یا سیمی گائیڈڈ ہتھیار۔فجر۔
الفتح (Hypersonic)
ایران کا دعویٰ ہے کہ یہ میزائل 400 سیکنڈز میں تل ابیب تک پہنچ سکتا ہے اور دنیا کے کسی بھی دفاعی نظام (بشمول آئرن ڈوم اور ایرو) سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔ عماد اور پاوہ: یہ میزائل 1650 سے 1700 کلومیٹر تک مار کر سکتے ہیں، جو اسرائیل کو نشانہ بنانے کے لیے کافی ہیں۔
سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی ہدایت پر فی الحال میزائلوں کی حد 2000 کلومیٹر تک محدود رکھی گئی ہے، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ ایران اس سے زیادہ رینج حاصل کرنے کی تکنیکی صلاحیت رکھتا ہے۔ 1979 کے انقلاب کے بعد امریکہ سے تعلقات منقطع ہونے کی وجہ سے ایران نئے جنگی طیارے (ایف-16 وغیرہ) حاصل نہ کر سکا، اس لیے میزائلوں کو طیاروں کے متبادل کے طور پر اپنایا۔ میزائل تیار کرنا اور داغنا جنگی طیاروں اور پائلٹوں کی تربیت کے مقابلے میں بہت سستا اور آسان ہے۔
ایران،عراق جنگ کے دوران عراق کے میزائل حملوں نے ایران کو اپنا میزائل پروگرام بنانے پر مجبور کیا۔
(2017 - 2026)ایران نے حالیہ برسوں میں اپنے میزائلوں کا عملی تجربہ متعدد ممالک میں کیا ہے۔
عراق: عین الاسد بیس پر امریکی فوج پر حملہ (قاسم سلیمانی کی ہلاکت کا بدلہ)۔ شام: داعش کے ٹھکانوں پر ذوالفقار میزائلوں سے حملہ۔
پاکستان: جنوری 2024 میں جیش العدل کے ٹھکانوں پر حملہ، جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیا۔
اسرائیل: اپریل 2024 اور اکتوبر 2024 میں سینکڑوں میزائلوں اور ڈرونز سے براہِ راست حملے۔
ایران اور روس کے بڑھتے ہوئے فوجی تعاون کے بعد ایران کو مزید جدید روسی ٹیکنالوجی تک رسائی مل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق، ایران کا یہ 'سٹریٹیجک صبر' اور میزائلوں کی بڑھتی ہوئی درستگی (Accuracy) خطے میں طاقت کا توازن مستقل طور پر تبدیل کر رہی ہے۔