ابوظہبی / تہران (رم نیوز)مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادل مزید گہرے ہو گئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی وزارتِ دفاع نے باضابطہ اعلان کیا ہے کہ ایران کی جانب سے داغے گئے میزائلوں کی ایک نئی لہر کو یو اے ای کے جدید فضائی دفاعی نظام نے فضا میں ہی تباہ کر دیا ہے۔ سرکاری بیان کے مطابق، ابوظہبی پر داغے گئے تمام ایرانی میزائلوں کو ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی ناکام بنا دیا گیا۔
وزارتِ دفاع کے ترجمان کے مطابق کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں تمام میزائل فضا میں تباہ ہوئے اور زمین پر کسی قسم کی تباہی کی اطلاع نہیں ملی۔ یو اے ای کی فضائی حدود اور حساس تنصیبات کی نگرانی سخت کر دی گئی ہے اور سکیورٹی ادارے کسی بھی ممکنہ مہم جوئی سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔
شہریوں کو پرسکون رہنے اور صرف سرکاری ذرائع سے حاصل ہونے والی معلومات پر یقین کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ایران نے پہلے ہی خبردار کر رکھا تھا کہ اس پر حملے کی صورت میں خطے میں موجود تمام امریکی اور اسرائیلی اثاثے اس کا جائز ہدف ہوں گے۔ تہران کے مطابق درج ذیل اہم مقامات اس کے ریڈار پر ہیں۔
قطر: العدید ایئر بیس (امریکہ کا سب سے بڑا علاقائی ہیڈکوارٹر)
کویت: کیمپ عریفجان اور علی السالم ایئر بیس۔
بحرین: امریکی بحریہ کے ففتھ فلیٹ کا مرکز۔
سعودی عرب: پرنس سلطان ایئر بیس جہاں 'تھاڈ' اور 'پیٹریاٹ' سسٹم نصب ہیں۔
عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق ایران مشرقِ وسطیٰ کی تیسری بڑی فوجی طاقت ہے جس کے پاس 6 لاکھ سے زائد فعال فوجی اور ہزاروں کی تعداد میں شارٹ اور میڈیم رینج میزائل موجود ہیں۔ تاہم، حالیہ حملے کی ناکامی سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں موجود امریکی اور اتحادی دفاعی حصار (Anti-Ballistic Systems) انتہائی فعال پوزیشن میں ہے۔