کیلیفورنیا (رم نیوز)ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حالیہ حملوں اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی نے عالمی توانائی کی مارکیٹ میں زلزلہ پیدا کر دیا ہے۔ سپلائی متاثر ہونے کے خدشے کے باعث خام تیل کی قیمتوں کو اچانک پر لگ گئے ہیں۔
عالمی منڈی میں ایک ہی دن کے دوران خام تیل کی قیمت میں 5.79 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے قیمت 4.22 ڈالرز اضافے کے بعد 77.09 ڈالرز فی بیرل ہو گئی۔ کئی تجارتی مراکز میں ایران پر جارحیت کے بعد قیمتوں میں مجموعی طور پر 10 فیصد تک کا اضافہ دیکھا گیا، جس کے بعد خام تیل 80 ڈالرز فی بیرل کی سطح تک جا پہنچا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس تیزی کی بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش ہے۔ اگر ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے باعث یہ بحری راستہ بند ہوتا ہے تو عالمی منڈی کو تیل کی فراہمی معطل ہو سکتی ہے۔
رواں سال تیل کی قیمت پہلے ہی 73 ڈالرز فی بیرل کی سطح پر تھی، تاہم جنگی صورتحال نے اسے نئی بلندیوں پر پہنچا دیا ہے۔تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہوا اور بحران برقرار رہا تو خام تیل کی عالمی قیمت بہت جلد 100 ڈالرز فی بیرل کی حد عبور کر سکتی ہے، جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں مہنگائی کا ایک نیا طوفان آنے کا خدشہ ہے۔