لندن/دوحہ (رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری شدید فوجی تصادم کے باعث عالمی منڈی میں توانائی کا بحران پیدا ہو گیا ہے، جس کے نتیجے میں خام تیل اور قدرتی گیس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔گذشتہ روز عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمت میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا، جس کے بعد یہ 79.25 ڈالر فی بیرل کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔ اسی طرح امریکی خام تیل (WTI) کی قیمت میں بھی تقریباً 1.5 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے، جو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی بے یقینی کی عکاسی کرتا ہے۔
دنیا کے سب سے بڑے گیس برآمد کنندگان میں شامل ’قطر انرجی‘ نے اپنی تنصیبات پر حملوں کے بعد پیداوار روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے کے فوراً بعد قدرتی گیس کی عالمی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس سے یورپ اور ایشیا کے صنعتی ممالک کے لیے گیس کی سپلائی معطل ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی اور تیل کی اہم گزرگاہوں (آبنائے ہرمز) پر دباؤ بڑھا، تو قیمتیں قابو سے باہر ہو سکتی ہیں۔
قطر کی جانب سے پیداوار کی بندش کو عالمی سپلائی چین کے لیے ایک بڑا دھچکا قرار دیا جا رہا ہے، جس کے اثرات براہِ راست عالمی مہنگائی کی صورت میں ظاہر ہوں گے۔ماہرین و مبصرین کے نزدیک مشرقی وسطی میں جاری کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں کتنا اضافہ ہوتا ہے اوراس کے دنیا بھر میں کیا اثرات ہوتے ہیں اس کے بارے میں کچھ بھی کہنا فی الحال قبل از وقت ہے ۔