ٹرمپ کا ایران میں 'وینزویلا ماڈل' کا مطالبہ: مجتبیٰ خامنہ ای کی نامزدگی پر واشنگٹن کی کھلی مخالفت، کیا مجتبیٰ خامنہ ای اگلے رہبرِ اعلیٰ بن پائیں گے؟

واشنگٹن/تہران (رم نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے بیٹے، مجتبیٰ خامنہ ای کو ان کا ممکنہ جانشین تسلیم کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ حالیہ انٹرویوز میں صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ ایران میں نئی قیادت کے انتخاب میں امریکہ کا کلیدی کردار ہونا چاہیے اور مجتبیٰ خامنہ ای کا انتخاب ان کے لیے "ناقابلِ قبول" ہے۔

صدر ٹرمپ نے روئٹرز اور ایکسیوس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ ایران میں نئے رہبرِ اعلیٰ کے انتخاب میں ویسا ہی عمل ہونا چاہیے جیسا وینزویلا میں کیا گیا۔اگرچہ مجتبیٰ خامنہ ای اس دوڑ میں سب سے آگے ہیں، لیکن واشنگٹن انہیں مسترد کرتا ہے۔ مجتبیٰ خامنہ ای (پیدائش 1969) تہران کے سیاسی حلقوں میں ایک پراسرار شخصیت سمجھے جاتے ہیں۔

انہوں نے کبھی کوئی سرکاری عہدہ نہیں سنبھالا لیکن انہیں "پردے کے پیچھے" سب سے بااثر شخصیت سمجھا جاتا ہے۔حال ہی میں سرکاری میڈیا نے انہیں 'آیت اللہ' پکارنا شروع کر دیا ہے تاکہ ان کی قیادت کی مذہبی رکاوٹیں ختم کی جا سکیں۔ ماہرین کا خیال ہے کہ امریکی و اسرائیلی حملوں میں اپنے خاندان کو کھونے کے بعد مجتبیٰ کے مغرب کے سامنے جھکنے کے امکانات نہ ہونے کے برابر ہیں۔

ایران کا 88 رکنی ادارہ 'مجلسِ رہبری' نئے سپریم لیڈر کے نام پر غور کر رہا ہے۔ ایران کا 1979 کا انقلاب موروثی بادشاہت کے خلاف تھا، اس لیے مجتبیٰ کا انتخاب عوامی سطح پر "موروثی جانشینی" کے طور پر متنازع ہو سکتا ہے۔توقع کی جا رہی ہے کہ نئے رہبرِ اعلیٰ کا اعلان علی خامنہ ای کی تدفین کے بعد ہی کیا جائے گا۔ صورتحال اس وقت مزید سنگین ہو گئی جب اسرائیلی وزیرِ دفاع نے واضح کیا کہ علی خامنہ ای کا جو بھی جانشین بنے گا، اسے "ختم کرنا" اسرائیل کا اولین ہدف ہوگا۔