ریاض/واشنگٹن (رم نیوز) مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگی صورتحال نے دہائیوں پرانے سعودی امریکہ تعلقات کو ایک نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم کی جانب سے سعودی عرب کو ایران کے خلاف جنگ میں کودنے کے لیے دی جانے والی دھمکیوں پر سعودی حکام، تجزیہ کاروں اور عوامی حلقوں نے سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مملکت اپنی سلامتی کا سودا کسی غیر ملکی دباؤ پر نہیں کرے گی۔
سوشل میڈیا پر سعودی صارفین نے سینیٹر گراہم کے بیانات کو "تضحیک آمیز" قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ایک سعودی صارف نے امریکی مداخلت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اسرائیل کے لیے جنگ شروع کی اور یہ آپ کا مسئلہ ہے۔ اسرائیل ہمیں آپ کی طرح کنٹرول نہیں کرتا، ہم اپنی جنگیں اپنی شرائط پر شروع کرتے ہیں۔ ہمیں دھمکانے سے کچھ نہیں بدلے گا۔ مبصرین کاکہنا ہے کہ سعودی عرب اپنی تمام تر توانائیاں 'وژن 2030'، سیاحت اور معاشی ترقی پر صرف کرنا چاہتا ہے، وہ کسی ایسی جنگ میں شامل ہو کر اپنی معیشت تباہ نہیں کرنا چاہتا جس کا آغاز اس نے نہیں کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے خطے کو وسیع تر جنگ میں دھکیلنے کے بعد ریاض اب امریکی سیکیورٹی ضمانتوں کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب نے ہمیشہ امریکہ کو کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری اور سفارتی سہارا دیا، لیکن جب سعودی عرب پر ایرانی میزائل داغے جارہے ہیں تو امریکہ اسے تحفظ دینے کے بجائے مزید اشتعال انگیزی کا مشورہ دے رہا ہے۔ سعودی حلقوں نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ ریاض جیسے طاقتور علاقائی اتحادی کے بغیر مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ صفر ہو کر رہ جائے گا۔ ترک میڈیا کے مطابق، سعودی عرب اب کسی ایسی جنگ کا مہرہ بننے کو تیار نہیں جو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے مفادات کے لیے شروع کی گئی ہو۔