ویلز (رم نیوز)برطانوی خاتون نے کپڑے بیچ کر اپنی زندگی بدل لی۔ جوئے اور خریداری کی لت میں مبتلا 41 سالہ سابق برطانوی فوجی اہلکار ریچل گریڈی نے اپنی زندگی کے سیاہ ترین باب کو ایک کامیاب کاروباری داستان میں بدل دیا۔ چار سال تک اپنے خاندان سے 40 ہزار پاؤنڈ (پاکستانی تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے) کا قرض چھپانے والی ریچل نے نہ صرف تمام ادائیگیاں مکمل کر لیں بلکہ اب وہ ایک منافع بخش کمپنی کی مالک بن چکی ہیں۔ ریچل گریڈی نے 24 سال برطانوی فوج میں خدمات انجام دیں.
تاہم اس کیریئر نے ان کی ذہنی صحت پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ 2020 میں کووڈ کے لاک ڈاؤن کے دوران وہ تنہائی اور اداسی کا شکار ہوئیں اور خاموشی سے آن لائن جوئے اور مہنگے کپڑوں کی خریداری کی عادی ہو گئیں۔ ریچل کے مطابق وہ اپنے فون پر 'بنگو سائٹس' استعمال کرتی تھیں اور کسی کو شک تک نہ ہونے دیتی تھیں، جبکہ اصل میں وہ مالی طور پر کنگال ہو رہی تھیں۔ اگست 2024 میں جب ریچل کے پاس کچھ نہ بچا، تو انہوں نے اپنے شوہر اور دو بچوں کے سامنے حقیقت کا اعتراف کر لیا۔ ریچل کا کہنا ہے کہ ان کے بچوں نے ملامت کرنے کے بجائے کہا، "ماں! آپ یہ کر سکتی ہیں،" اور یہی وہ حوصلہ تھا جس نے انہیں دوبارہ کھڑا ہونے کی طاقت دی۔
ریچل نے قرض اتارنے کے لیے اپنی الماری میں موجود کپڑے آن لائن بیچنے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے ٹک ٹاک سے سیکھا کہ کس طرح تھوک میں کپڑے خرید کر انہیں منافع پر بیچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 30 پاؤنڈ کا پہلا بنڈل خرید کر 500 پاؤنڈ میں بیچا۔ جلد ہی وہ 'ونٹڈ' اور 'ای بے' جیسے پلیٹ فارمز پر ماہانہ 2 ہزار پاؤنڈ کمانے لگیں۔ آج ریچل کی اپنی کمپنی ہے جو ماہانہ 10 سے 15 ہزار پاؤنڈ کما رہی ہے اور ان کے ٹک ٹاک پر 20 ہزار سے زائد فالوورز ہیں جو ان کے سفر سے متاثر ہیں۔