مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں "تیل" ہمیشہ سے اقتدار اور تصادم کا ایندھن رہا ہے، لیکن 2026 کے بدلتے ہوئے حالات میں سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی 'ایرانی تیل' پر قبضے یا مکمل کنٹرول کی تڑپ نے خلیج فارس کو ایک ایسے آتش فشاں پر لا کھڑا کیا ہے جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا نظریہ ہمیشہ سے "امریکہ فرسٹ" رہا ہے، جس میں عالمی توانائی کی منڈی پر مکمل گرفت شامل ہے۔ ایرانی تیل کے ذخائر کو نشانہ بنانا یا انہیں حاصل کرنا تہران کے لیے ایک 'وجود کا خطرہ' (Existential Threat) ہے۔
ایران نے واضح کر دیا ہے کہ اگر اس کی توانائی کی شہ رگ پر وار ہوا، تو وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔ خلیجی ممالک (سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت) کی سب سے بڑی طاقت ان کی دولت ہے، لیکن ان کی سب سے بڑی کمزوری "پانی" ہے۔ یہ صحرائی ممالک اپنے پینے کے پانی کے لیے سمندری پانی صاف کرنے والے 'ڈیسیلی نیشن پلانٹس' پر مکمل منحصر ہیں۔کویت میں حالیہ بجلی گھر اور واٹر پلانٹ پر حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ایران اور امریکہ کی لڑائی میں خلیجی ریاستوں کا 'لائف سپورٹ سسٹم' سب سے آسان ہدف ہے۔ اگر یہ پلانٹس تباہ ہوتے ہیں، تو جدید ترین شہر چند گھنٹوں میں انسانی المیے کی تصویر بن جائیں گے۔
خلیجی قیادت اس وقت ایک مشکل دوراہے پر ہے۔ ایک طرف انہیں امریکہ کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدوں کو برقرار رکھنا ہے، اور دوسری طرف وہ اپنے توانائی کے ڈھانچے (جیسے قطر کا راس لفان ایل این جی مرکز) کو ایرانی میزائلوں سے بچانا چاہتے ہیں۔اگر خلیج میں یہ 'توانائی جنگ' شدت اختیار کرتی ہے، تو اس کا اثر صرف واشنگٹن یا تہران تک محدود نہیں رہے گا۔ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں ناقابلِ کنٹرول حد تک بڑھ جائیں گی۔سپلائی چین میں تعطل بھارت اور چین جیسی بڑی معیشتوں کو توانائی کے شدید بحران میں دھکیل دے گا (جیسا کہ حالیہ دنوں میں بھارت میں ایل پی جی کی قلت ہے)۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی ایرانی تیل حاصل کرنے کی خواہش ایک ایسا جوا ہے جس کی قیمت خلیجی ریاستیں اپنے خون اور پسینے سے بنے انفراسٹرکچر کی صورت میں چکا سکتی ہیں۔ یہ خطہ اب صرف تیل کا کنواں نہیں رہا، بلکہ ایک ایسا بارود خانہ بن چکا ہے ۔ تاہم امریکی صدر کی ایرانی تیل پر قبضے کی خواہش کیا رنگ لائے گی اس بارے میں کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے