تہران/واشنگٹن (رم نیوز) ایران کا 'جوہری بم' سے مہلک ہتھیار، آبنائے ہرمز عالمی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دی جارہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ صورتحال میں دفاعی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کے پاس موجود 'آبنائے ہرمز' کا کنٹرول کسی بھی جوہری ہتھیار سے زیادہ مؤثر ثابت ہو رہا ہے۔ حالیہ 40 روزہ لڑائی کے دوران ایران کی جوہری صلاحیت سے زیادہ اس کی جانب سے عالمی تجارتی گزرگاہ کی بندش کا خوف عالمی طاقتوں پر حاوی رہا۔
رپورٹ کے مطابق، تنازع کے آغاز میں یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل ایران کی اعلیٰ قیادت یا اہم تنصیبات کو نشانہ بنا کر اسے دباؤ میں لے آئیں گے، تاہم ایران نے جواباً خلیج فارس کو عالمی منڈیوں سے ملانے والی تنگ آبی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی طرف توجہ مرکوز کر لی۔ آبنائے ہرمز سے ہونے والی تیل اور گیس کی بلا تعطل ترسیل پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کا شدید انحصار ہے۔ ایران کی جانب سے سمندری ٹریفک میں خلل ڈالنے کے اشاروں نے عالمی طاقتوں کو دفاعی پوزیشن پر آنے پر مجبور کر دیا ہے، کیونکہ اس راستے کی بندش سے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہیں۔
ایران نے ثابت کیا ہے کہ وہ مہنگے جوہری پروگرام کے بغیر بھی صرف جغرافیائی محلِ وقوع کے ذریعے دنیا کو مفلوج کر سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران مستقبل میں اس آبی گزرگاہ پر اپنی گرفت مزید مضبوط کرنے کے لیے درج ذیل حربے استعمال کر سکتا ہے۔ گزرگاہ کے تنگ راستوں میں جدید 'مائنز' بچھا کر جہاز رانی کو روکنا۔ ساحلی علاقوں سے خودکش ڈرونز اور اینٹی شپ میزائلوں کے ذریعے بحری جہازوں کو نشانہ بنانا۔تیز رفتار کشتیوں کے ذریعے تجارتی جہازوں کو قبضے میں لینا یا ان کا راستہ روکنا۔ ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بطور "معاشی ایٹم بم" استعمال کرنے کی پالیسی نے خطے میں طاقت کا توازن تبدیل کر دیا ہے، جس سے نمٹنا اب امریکہ اور اس کے شراکت داروں کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے۔