امریکی دفاعی پالیسی میں تاریخی موڑ، پینٹاگون کا 1.5 ٹریلین ڈالر کا ریکارڈ بجٹ پیش، دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا اضافہ

واشنگٹن (رم نیوز ) پینٹاگون نے مالی سال 2027 کے لیے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا دفاعی بجٹ پیش کر کے دنیا کو حیران کر دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ 1.5 ٹریلین ڈالر کا یہ بجٹ دوسری جنگِ عظیم کے بعد سالانہ بنیادوں پر دفاعی اخراجات میں ہونے والا سب سے بڑا اضافہ ہے۔ اس بھاری بھرکم بجٹ کا مقصد امریکی فوج کو جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس کرنا ہے۔ بجٹ کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔ کل بجٹ میں 1.15 ٹریلین ڈالر بنیادی اخراجات جبکہ 350 ارب ڈالر اضافی فنڈنگ کے لیے طلب کیے گئے ہیں۔

آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI)، ڈیٹا انفراسٹرکچر اور میزائل ڈیفنس کو صدارتی ترجیحات میں سرِفہرست رکھا گیا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی کے لیے 53.6 ارب ڈالر اور اینٹی ڈرون سسٹمز کے لیے 21 ارب ڈالر مختص کرنے کی تجویز ہے۔پینٹاگون نے اپنی بحری اور فضائی برتری برقرار رکھنے کے لیے خطیر رقم کا مطالبہ کیا ہے۔ 65 ارب ڈالر کی لاگت سے 18 جنگی اور 16 معاون بحری جہاز تیار کیے جائیں گے۔ 102 ارب ڈالر ایوی ایشن پروگرامز کے لیے رکھے گئے ہیں، جس کے تحت ایف-35 طیاروں کی سالانہ خریداری بڑھا کر 85 کر دی گئی ہے۔

ٹیکنالوجی کے ساتھ ساتھ افرادی قوت پر بھی توجہ دی گئی ہے۔ فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔امریکی دفاعی حصار کو مضبوط بنانے کے لیے 44 ہزار نئے اہلکاروں کی بھرتی کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق 1.5 ٹریلین ڈالر کا یہ بجٹ اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکہ مستقبل کی جنگوں کے لیے روایتی اسلحے کے بجائے مصنوعی ذہانت اور ڈرون ٹیکنالوجی کو کلیدی ہتھیار کے طور پر دیکھ رہا ہے۔