امریکی ڈالر یا چینی یوان؟ متحدہ عرب امارات کا واشنگٹن کے سامنے ’بڑا مطالبہ‘ اور ڈالر کی عالمی ساکھ کا امتحان

دبئی/نیویارک(رم نیوز) متحدہ عرب امارات نے امریکہ کے ساتھ ایک اہم مالیاتی دفاعی معاہدے یعنی ’کرنسی سواپ لائن‘ کے لیے کوششیں تیز کر دی ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کے مطابق، اماراتی حکام نے واشنگٹن کو خبردار کیا ہے کہ اگر بحرانی حالات میں انہیں ڈالر تک براہِ راست رسائی نہ دی گئی، تو وہ تیل کی تجارت کے لیے چینی یوان کا رخ کر سکتے ہیں، جو کہ عالمی سطح پر امریکی ڈالر کی اجارہ داری کے لیے ایک سنگین چیلنج ثابت ہو سکتا ہے۔ یہ دو ممالک کے مرکزی بینکوں کے درمیان کرنسیوں کے عارضی تبادلے کا ایک خودکار نظام ہے۔ امریکی فیڈرل ریزرو امارات کو ڈالر فراہم کرتا ہے، جبکہ امارات بدلے میں اپنے درہم بطور ضمانت امریکہ کے پاس رکھتا ہے۔یہ تبادلہ پہلے سے طے شدہ شرح پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے جنگ یا معاشی بحران کے دوران مارکیٹ میں ہونے والا اتار چڑھاؤ اثر انداز نہیں ہوتا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یو اے ای کا یہ مطالبہ محض معاشی ضرورت نہیں بلکہ ایک بڑی سفارتی چال ہے۔اماراتی حکام نے واضح کیا ہے کہ ڈالر کی کمی کی صورت میں وہ تیل کی فروخت کے لیے متبادل کرنسیوں (خصوصاً یوان) کے استعمال پر مجبور ہوں گے، جو کہ ’پیٹرو ڈالر‘ کے نظام کو کمزور کر سکتا ہے۔ یو اے ای برطانیہ، جاپان اور یورپی یونین جیسے ان ممالک کی فہرست میں شامل ہونا چاہتا ہے جنہیں امریکہ کی مستقل مالیاتی حمایت حاصل ہے۔ اس معاہدے سے عالمی سرمایہ کاروں کو یہ پیغام جائے گا کہ اماراتی معیشت کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق، متحدہ عرب امارات کو فی الحال نقدی کا کوئی بحران درپیش نہیں ہے، بلکہ یہ ’سٹیٹس‘ کی جنگ ہے۔ بلومبرگ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یو اے ای خود کو مشرقِ وسطیٰ کے ایک محفوظ ترین مالیاتی قلعے کے طور پر منوانا چاہتا ہے، جہاں ڈالر کی دستیابی کی سو فیصد ضمانت موجود ہو۔اگر امریکہ اس مطالبے کو تسلیم کر لیتا ہے، تو یہ نہ صرف اماراتی درہم کو مزید مستحکم کرے گا بلکہ چین کے بڑھتے ہوئے معاشی اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے واشنگٹن کا ایک اہم دفاعی اقدام بھی تصور کیا جائے گا۔